Pakistan Customs has gradually expanded the scope and coverage of its Faceless Customs Assessment (FCA) to facilitate trade and minimise human interface in the clearance of goods from ports. Launched in December, 2024, FCA has deprived many who thrived on the gains made from the old system. They have actively been maligning FCA to secure its roll back.
Some of the leading national media outlets have unfortunately lent shoulder to propel this false narrative without proper due diligence and investigation. One such example is the recent publication of news items stating that Audit report has revealed large scale clearance of luxury vehicles at highly under-invoiced values in FCA. In particular, example of a 2023 Toyota Land Cruiser has been given that was allegedly assessed at a petty value of Rs. 17,635, in FCA thereby causing huge loss to national exchequer.
On the contrary, it is clarified that the said vehicle was assessed at Rs. 10.05 million and an amount of Rs. 47.2 million was recovered in duty and taxes. In fact all such vehicles have been assessed by Customs under FCA at higher assessed values without causing any loss of revenue.
In the same report, the issue of trade based money laundering has also been alleged in import of these vehicles ignoring the fact that only overseas Pakistanis are entitled to such imports under gift or transfer of residence schemes. These schemes do not involve any outward remittance of foreign exchange from Pakistan. Besides, import of used vehicles in the same manner has been taking place even before the launch of FCA.
It is also important to mention that internal reviews and Audit of FCA, which are often time quoted out of context, are being conducted by FBR itself to ensure that gaps in this new system are timely identified and addressed.
ایف بی آر
***
پریس ریلیز
***
پرانے نظام سے فائدہ اٹھانے والے فیس لیس کسٹمز سسٹم کو بدنام کر کے اسے ختم کرانا چاہتے ہیں ۔
**
پاکستان کسٹمز نے تجارت میں سہولت فراہم کرنے اور بندرگاہوں سے سامان کی کلیئرنس میں انسانی مداخلت کم سے کم کرنے کے لئے اپنے فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ سسٹم کے دائرہ کار کو بتدریج وسعت دی ہے ۔ دسمبر 2024 میں شروع ہونے والے اس نظام سے ان افراد کے مفادات پر زد پڑی ہے جو پرانے نظام سے ناجائز فائدے حاصل کر رہے تھے۔ یہی عناصر اب فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ کو بدنام کر رہے ہیں تاکہ اس نظام کو ختم کرایا جا سکے ۔
بدقسمتی سے قومی ذرائع ابلاغ کے بعض حلقوں نے تحقیق کئے بغیر اس جھوٹے بیانیے کا ساتھ دیا ہے ۔ اس کی ایک مثال حال ہی میں شائع ہونے والی خبر ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ سسٹم کے تحت بڑی تعداد میں لگژری گاڑیوں کو بہت ہی کم قیمت لگا کر کلیئر کیا گیا ۔خاص طور پر 2023 ماڈل کی ایک ٹویوٹا لینڈ کروزر کی مثال دی گئی جسے مبینہ طور پر محض 17,635 روپے کی کم قیمت لگا کر فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ سسٹم میں کلیئر کیا گیا جس سے قومی خزانے کو بہت نقصان پہنچا۔
اس کے برعکس یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ مذکورہ گاڑی کی قیمت 1 کروڑ 5 لاکھ روپے لگائی گئی اور اس پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی مد میں 4 کروڑ 72 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ سسٹم کے تحت کسٹمز کی طرف سے تمام ایسی گاڑیوں کی اصل قیمت لگائی گئی اور قومی خزانے کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔
اسی خبر میں ان گاڑیوں کی درآمد کے حوالے سے منی لانڈرنگ کا الزام بھی لگایا گیا جبکہ قواعد کے مطابق یہ گاڑیاں صرف بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ہی گفٹ یا ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیم کے تحت درآمد کر سکتے ہیں۔ ان اسکیموں میں پاکستان سے کسی قسم کا زرِمبادلہ باہر نہیں بھیجا جاتا۔ مزید برآں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد اسی طرز پر فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ سسٹم کے رائج ہونے سے پہلے بھی ہوتی رہی ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ سسٹم کی جانچ پڑتال اور آڈٹ جنہیں اکثر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جاتا ہے فیڈرل بورڈ آف ریونیو خود کر رہا ہے تاکہ اس نئے نظام میں موجود خامیوں کی بروقت نشاندہی کر کے انہیں دور کیا جا سکے۔